زینب الرٹ ایکٹ 2020

قومی اسمبلی نے 07 فروری 2019 کو بروز جمعہ کو زینب کی دوسری برسی کے موقع پر زینب الرٹ ایکٹ کی قرارداد منظور کر لی ۔2018 میں زینب کو 9 برس کی عمر میں پہلے جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت بچوں کے ساتھ جو بھی جنسی ذیادتی میں ملوث پایا جائے گا یا بچوں کا قتل کرے گا اسے سر عام پھانسی دی جائے گی اور اس ایکٹ کے تحت اب تک جتنےبھی بچے گمشدہ ہیں انہیں بھی تلاش کیا جائے گا اور اس بل کے تحت ایک ہیلپ لائن نمبر1099 بھی متعارف کروائی جائے گی جس کے ذریعے بچوں سے جنسی ذیادتی کے کیسس رپورٹ کیے جائیں گے اور جو بھی کوئی ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کر کے اپنے گمشدہ بچے کی رپورٹ درج کروائے گا اسے فورا بچے کی تصویر کے ساتھ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جائے گا تاکہ کوئی بھی شخص اگر اس طرح کے بچے کو کہیں بھی دیکھے تو فورا اس نمبر پر رابطہ کرے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے زینب الرٹ ایکٹ ایک بہترین کاوش ہے اس کے تحت جنسی ذیادتی جیسے سنگین جرم کو روکا جا سکتا ہے کیونکہ اس ایکٹ کے تحت جنسی ذیادتی کرنے والے کوسرعام چوراہے پر لٹکایا جائے گا اور پھر دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں گے اور آئندہ یہ جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور نہیں ہو سکی اور کثرت رائے سے منظور کی گئی اور کچھ مذہبی سکالرزکا کہنا ہے کہ اس طرح انسانی جسم کی بے حرمتی ہوگی حالانکہ اس سے ذیادہ انہیں اس بات کی ذیادہ پرواہ ہونی چاہیے تھی کہ جن معصوموں کے ساتھ جنسی ذیادتی کی جاتی ہےاور پھر انہیں خوفناک طریقے سے قتل کیا جاتا ہے ان کی تکلیف ذیادہ ہوتی ہے تاہم چونکہ ایسے لوگوں نے ابھی سیاست بھی کرنی ہے اس لیے انہوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی جس کی وجہ سے یہ متفقہ طور پر منظور نہیں کی جا سکیی۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں بھی اس سلسلے میں کارروائی کی جاری ہے اور اس بات پر تو سب کا ہی اتفاق پایا جاتا ہے کہ ایسے افراد کو سرعام پھانسی دی جائے تاہم سر عام پھانسی دینے کے حوالے سے مشکلات اور مسائل موجود ہیں جس کی وجہ سے اس بات پر اتفاق رائے بن رہا ہےکہ ایسے افراد کو پھانسی دینے کے بعد اسکی لاش کو سر عام رکھا جائے تاکہ دیگر لوگ عبرت پکڑیں ۔
اس میں کسی شک کی بات نہیں کہ جب سے قصور کی معصوم زینب کا کیس سامنے آیا ہےاس کے بعد ایک ایک کرکے درنرگی کے ایسے کئی کیسس سامنے آچکے ہیں اور یہ سلسلہ تھما ہوا نظر نہیں آرہا ہے ۔اور ریاست اور ریاستی ادارےاب تک قراردادوں اور مشاورتی عمل میں ہی پھنسے ہوئے ہیں ۔تاہم ریاست کو اس معاملے پرتمام تر سمجھوتوں اور مصلحتوں کے خول سے باہر نکل کر اب فیصلہ کرنا ہی ہوگا کیونکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

اپنی ذمہ داری خود نبھائیے

بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کی جنسی گھٹن کا ثبوت ہیں۔ ہم وہ قو م ہیں جو جنسی ذیادتی اور تشدد تو برداشت کر سکتی ہے لیکن جنسی تعلیم و تربیت کا مشورہ ہمیں بے حیائی معلوم ہوتا ہے ۔بلاشبہ پاکستانی معاشرہ ایک مہذب اور روایت پسند معاشرہ ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک مہذب مثالی معاشرہ میں سب اچھا ہو۔
نبی کریمﷺنے فرمایا:
“تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کے ما تحت (متعلقین ) کے بارے میں پوچھا جائے گا ” (صحیح بخاری)
اس لیے یہ ہماری خود کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو جنسی ذیادتی سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایک غلطی ہم سے روز ہو رہی ہے اور جان بوجھ کر اپنی تھوڑی سے سہولت کے لیے کر رہے ہیں جسکا نتیجہ بعض اوقات اتنا بھیانک شکل میں نکلتا ہے کہ دل ہی پھٹ جائے ہم اکثر دن کے وقت تو چھوڑیے اکثر رات کے اوقات میں بھی بچوں کو پاس والی دکان میں سودا سلف لینے کے لیے بھج دیتے ہیں بچے تو معصوم ہوتے ہیں اور وہ دنیا سے بے خبر ہو کر خریداری کر رہے ہوتے ہیںاور ان بچوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کوئی حیوان ان پر گندی نگاہیں مرکوز کیے ہوئے بیٹھا ہے اور موقع ملتے ہی وہ حیوان اسے اپنے حصار میں لے لے گا اور اگر پھر بچہ اغواء یا جنسی ذیادتی کا شکار ہو جائے تو پھر ہم اپنے آپ کو کوستے ہیں کی کاش ہم اسے سودا سلف لینے نہ بھیجتے اور آج ہمارا بچہ ہمارے ساتھ ہوتا لہذٰا آپ سب والدین سے گزارش ہے کہ گھر کے کام آپ خود کریں اور اپنے بچوں کو سودا سلف لینے کے لیے نہ بھیجیں
اور بچوں کی ہر قسم کی سرگرمی پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں سے ملتے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے بات کرتے ہیں ۔بچوں کے ساتھ ذیادہ سخت رویہ نہ اپنائیں اور نرمی سے برتاؤ کریں تاکجہ انہیں مسئلہ درپیش ہو تو وہ بے خوف ہوکر بتا سکیں آپ اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ آپ ان کے بہترین دوست ہیں اور ہر مشکل میں ان کی مدد کے لیے تیار ہیں بچوں کو اچھے اور برے راز کا فرق بتائیں بچوں کو کسی بھی حالت میں اکیلا نہ چھوڑیں اور اگر انتہائی ضرورت پیش ہو تو کسی اعتبار والے شخص کے ہمراہ چھوڑیں بچوں کو بتایا جائے کہ وہ اپنے جسم کی حفاظت خود کریں نہ وہ خود کسی کوچھوئیں اور نہ کسی کو چھونے کی اجازت دیں اگر کوئی ان کو چھونے کی کوشش کرے تو وہ خود اپنے والدین کو بتائیں بچوں کو انکی عمر کے مطابق پوشیدہ جسمانی اعضاء کی حفاظت کی تربیت دیں اور بچوں کے بڑی عمر اور کم عمر بچوں کے ساتھ میل جول پر خاص نظر رکھیں اور انہیں ہدایت دیں کہ وہ اپنی عمر کے بچوں سے ہی دوستی کریں یہ سب کام والدین کے کرنے کے ہیں اوراساتزہ کرام کوبھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کومثالی استار کے طور پر پیش کرے اور انہے کلاس میں ٹریننگ دیں کہ اپنے آپ کو کیسے اس طرح کے برے لوگو سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ اورجو کام والدین اور استاد کے کرنے کے ہیں اگر وہ کام وہ اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ پورے طریقے سے نبھائیں تو ایسے واقعات کی روک تھام کافی حد تک ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ یہ صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ہماری خود کی ذمہ داری ہے کیونکہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں انہیں وقت دیجیئے تاکہ بچوں کو جنسی ذیادتی جیسے ظلم سے محفوظ رکھا جائے۔

ہم کتنی اور زینتوں کی لاشیں اٹھائیں گے؟

بچوں کےساتھ جنسی ذیادتی و تشدد کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. قصور سکینڈل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل تھا. زینب ذیادتی کے بعد قتل کی جانے والی پاکستان کی پہلی یا آخری بچی نہیں تھی ۔لیکن پھر بھی زینب ذیادتی قتل کیس پاکستان کا اہم ترین کیس تھا. لیکن کیا اس واقعہ کے بعد دیگر پاکستانی بچے جنسی ذیادتی۔۔۔۔ سے محروم رہے ؟ نہیں بلکہ زینب واقعہ کے بعد بچوں سےجنسی ذیادتی اور قتل کی مزید خبریں سامنے آئیں کہ ایک لمحے کو ایسا لگنے لگاکہ شاید اب ہم اخلاقی تباہی کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں خدا کا عذاب آناہی باقی رہ جاتا ہے۔
ابھی چند دن قبل ہی ضلع نوشہرہ کے ایک گاؤں میں 8 سالہ حوض ِنور نامی بچی کے قتل اور جنسی ذیادتی کا واقعہ پیش آیا .

اسی رات پولیس کو بچی کی لاش ملی تھی جس کے بعد پولیس ملزمان کی تلاش میں تھی تاہم بچی کے لواحقین نے ہی ان ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا ۔ ان ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد بیان ریکارڈ کروائے گئے جن میں ایک ملزم نے قتل اور ذیادتی کا اعتراف کیا۔بچوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ نور روزانہ اپنی بہن کے ساتھ تین بچے سپارہ پڑھنے جاتی تھی ۔آج بھی وہ سپارہ پڑھنے ہی گئی تھی اور واپسی پر یہ شخص اسے راستے میں روک کر چیزوں کی لالچ دینے لگا ۔اور اسکی چھوٹی بہن گھر واپس آگئی ۔ شام ہونے کے بعد گھر والے نور کو ڈھونڈنے نکلے اور مسجد میں اعلان بھی کروایا ۔اور واردات کرنے والا شخص ہمارے ساتھ ملکر نور کو تلاش کرنے لگا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو ۔ کبھی کہتا نور کو میں نے اُدھر دیکھا تھا اور کبھی کچھ کہتا تھا ۔ پھر نور کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ یہ وہی شخص تھا ۔جس نے اسے راستے میں روکا تھا ۔پہلے وہ بتا نہیں رہا تھا پھر اس کے گھر سے دوپٹہ ملا اور پھر اس نے بتایا کہ نور کی لاش ٹینکی میں ہے ایک ٹیکسی والا بھی اس کے ساتھ شامل تھا ۔ لواحقیننے قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے پولیس کو اطلاع دی نور کے والدین انتہائی غمگین ہیں صوبے کے وزیر اعلیٰ محمود خان بھی بچی کے لواحقین سے ملنے گئے ۔ اس موقع پر لوگوں کی کافی تعداد موجود تھی ۔اور انہوں نے وزیر اعلیٰ محمود خان سے شکایت کی کہ اس سے پہلے بھی نوشیو میں مناہل نام کی بچی کا قتل اور ریپ ہوا تھا مگر حکومت نے کچھ سخت اقدامات نہیں کیے اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے علاقے کے لوگوں سے سخت قانون سازی کا وعدہ کیا ۔ اور پھر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ، صحافیوں اور سول سوسائٹی اور سب کواپنا کردار اداد کرنا ہوگا۔
لہذٰا نور،زینب اور دوسرے واقعات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بچوں کی حفاظت ہماری خود کی ذمہ داری ہے۔ہمیں بچوں کو اکیلا کہیں بھی نہیں بھیجنا چاہیے بلکہ خود انکے ساتھ جانا چاہیے ۔اور علاقے کے لوگوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے ۔اگر بچہ کسی شخص کے بارے میں بتائے اور کسی نا خوشگوار واقعہ کی شکایت کرے تو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی ہیلپ لائن 1121اور محکمہ پولیس کی ہیلپ لائن15 پر فوری رابطہ کریں کیونکہ اب ہم میں اور سکت اور طاقت نہیں کہ ہم مزید زینبوں کی لاشیں اٹھا سکیں۔

بچوں پر جنسی تشدد کے اثرات

بچوں سے جنسی ذیادتی ہمارے معاشرے کا افسوسناک المیہ ہے ۔ٹی وی ، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں بہت ذیادہ آگاہی فراہم کی گئی ہے کہ اپنے بچوں کو جنسی تشدد اور ذیادتی سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے لیکن لوگوں میں آگاہی ہونے کے باوجود بچوں سے جنسی ذیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان، NGO’s اور مختلف ادارے بچوں سے جنسی ذیادتی کی روک تھام کے لیے بہت کوشش کر رہے ہے۔ اور اس کی روک تھام کے لیے ہیلپ لائن نمبر1121بھی متعارف کروائی گئی ۔ لیکن اس کے باوجود نہ جانے روز کتنے ہی بچے جنسی ذیادتی کا شکار ہوتےہیں۔ بچوں پر جنسی ذیادتی کی وجہ سے بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو پاتے اور اپنے ساتھ ہونے والے جنسی ذیادتی کے واقعات کو کبھی نہیں بھول پاتے جسکی وجہ سے بچوں میں بہت ذیادہ تر دماغی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اپنے ساتھ ہوئی جنسی ذیادتی کی وجہ سے بچے ہمیشہ گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں۔ اور لوگوں میں ذیادہ گھلنے ملنے سے گریز کرتے ہیں اور ہمیشہ تنہائی میں رہنا ذیادہ پسند کرتے ہیں ۔جنسی ذیادتی کی وجہ سے بچوں میں احساس کمتری کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے اور احساس کمتری ایک ایسی دماغی بیماری ہے جسکی وجہ سے بچہ اپنا اعتماد اور طاقت کھودیتا ہے اور ہمیشہ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی اہم سر گرمیوں میں حصہ نہیں لے پاتے۔ بچے جنسی ذیادتی کی وجہ سے ہمیشہ ڈر اور خوف کا شکار رہتے ہیں اور وہ ہر کسی سے ڈر اور خوف محسوس کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی ڈر اور خوف محسوس کرتے ہیں اور کسی پر اعتبار اور بھروسہ نہیں کرتے ۔اور جب کوئی ان کے دوست اور رشتہ داروں میں سے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے تو انکو شدید غصہ آتا ہے۔اور وہ غصے کی حالت میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بد اخلاقی اور بد تمیزی سے پیش آتے ہیں اور انکو اس بات کا بالکل احساس نہیں ہوتا کہ وہ ان سے کس لہجےمیں بات کر رہے ہیں۔اور غصے کے بعد بچے اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں ۔اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ اپنے آپ سے اور اپنے جسم سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی کبھار انہیں یہ نقصان خود کشی کی طرف لے جاتا ہے ۔ جنسی ذیادتی کی وجہ سے بچے ہمیشہ الجھن کا شکار رہتے ہیں اور اس الجھن کی وجہ سے وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے پاتے ۔اور ذیادہ تر بچے منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور پھر بچے منشیات کا عادی بن جاتے ہیں۔

لہذٰا میرے اس بلاگ کو پڑھنے والے تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ بچوں سے جنسی ذیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سب اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

بچوں سے جنسی ذیادتی ، پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا جرم

بچوں سے جنسی ذیادتی سے مراد بچوں کو جسمانی چوٹ پہنچانا یا جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ہیں ، بچوں سے جنسی ذیادتی دور حاضر کا اہم اور بڑی تیزی سے بڑھتا ہوا جرم ہے ۔ جس میں کمی واقع ہونے کی بجائےدن بدن اضافی ہوتا جارہا ہے ۔ایک سروے کے مطابق 2019 میں 2217بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے واقعات پیش آئے ۔
2019 میں زینب کی پہلی برسی کے موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ زینب قتل کیس کے بعد صرف قصور میں مزید 300 بچوں سے جنسی ذیادتی کے واقعات پیش آئے ۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ بچوں سے ذیادتی کا جرم پاکستان میں پروان چڑھتا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق ذیادہ تر وارداتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریلپسٹ اور بچے اجنبی نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ان میں قریبی رشتہ داروں سے لے کر محلہ داروں میں سے کوئی ہوتا ہے ۔
ایک سروے کے مطابق 90٪ کیسس میں ذیادہ تر بچے اپنے جاننے والوں کے ہاتھوں جنسی ذیادتی کا شکار بنتے ہیں ۔ جس میں سے 60٪ کیسس میں بچے اپنے اساتذہ ہمسایوں اور علاقے کےلوگوں کے ہاتھوں جنسی ذیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ صرف 10٪کیسس میں بچےاجنبی کے ہاتھوں جنسی ذیادتی کا شکار بنتے ہیں۔
2019 کے سروے کے مطابق صرف 29٪ کیسس کو رپورٹ کیا جاتا ہے اور 61٪ کیسس کو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔عموما ریلیسٹ کئی طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کسی انتقام یا غصے کے تحت یہ کام کرتے ہیں ۔ انکی واردات انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے اور کچھ ریلیسٹ بچوں سے ںجنسی زیادی لطف اٹھانے کے لیے کرتے ہیں اس طرح کے ریلیٹ بچوں کو طرح طرح کی من پسند جسمانی و ذہنی اذیت ناکی سے گزار کر لطف پورا کرتے ہیں اور وہ مار پیٹ سے بچوں کے نازک اعضاء اور چہرے کو مسخ کر دیتے ہیں ان سب حرکتوں سے انہیں ایک طرح کا سکون حاصل ہوتا ہےاور پھر وہ لطف پورا کرنے کے بعد بچوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ پا کستا ن میں زیازہ تر ریپست کی یہی تعداد پائی جاتی ہے۔
لہذٰا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ والدین کی خود کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں کہ وہ کہاں جاتے ہیں اور کن لوگوں سے بات کرتے ہیں اور کن لوگوں سے انکو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے ۔صرف اسی طرح ہم اپنے بچوں کو جنسی ذیادتی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔