
قومی اسمبلی نے 07 فروری 2019 کو بروز جمعہ کو زینب کی دوسری برسی کے موقع پر زینب الرٹ ایکٹ کی قرارداد منظور کر لی ۔2018 میں زینب کو 9 برس کی عمر میں پہلے جنسی ذیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور پھر اسے بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت بچوں کے ساتھ جو بھی جنسی ذیادتی میں ملوث پایا جائے گا یا بچوں کا قتل کرے گا اسے سر عام پھانسی دی جائے گی اور اس ایکٹ کے تحت اب تک جتنےبھی بچے گمشدہ ہیں انہیں بھی تلاش کیا جائے گا اور اس بل کے تحت ایک ہیلپ لائن نمبر1099 بھی متعارف کروائی جائے گی جس کے ذریعے بچوں سے جنسی ذیادتی کے کیسس رپورٹ کیے جائیں گے اور جو بھی کوئی ہیلپ لائن نمبر پر رابطہ کر کے اپنے گمشدہ بچے کی رپورٹ درج کروائے گا اسے فورا بچے کی تصویر کے ساتھ ٹی وی، ریڈیو اور سوشل میڈیا پر نشر کیا جائے گا تاکہ کوئی بھی شخص اگر اس طرح کے بچے کو کہیں بھی دیکھے تو فورا اس نمبر پر رابطہ کرے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے زینب الرٹ ایکٹ ایک بہترین کاوش ہے اس کے تحت جنسی ذیادتی جیسے سنگین جرم کو روکا جا سکتا ہے کیونکہ اس ایکٹ کے تحت جنسی ذیادتی کرنے والے کوسرعام چوراہے پر لٹکایا جائے گا اور پھر دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں گے اور آئندہ یہ جرم کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور نہیں ہو سکی اور کثرت رائے سے منظور کی گئی اور کچھ مذہبی سکالرزکا کہنا ہے کہ اس طرح انسانی جسم کی بے حرمتی ہوگی حالانکہ اس سے ذیادہ انہیں اس بات کی ذیادہ پرواہ ہونی چاہیے تھی کہ جن معصوموں کے ساتھ جنسی ذیادتی کی جاتی ہےاور پھر انہیں خوفناک طریقے سے قتل کیا جاتا ہے ان کی تکلیف ذیادہ ہوتی ہے تاہم چونکہ ایسے لوگوں نے ابھی سیاست بھی کرنی ہے اس لیے انہوں نے اس قرارداد کی مخالفت کی جس کی وجہ سے یہ متفقہ طور پر منظور نہیں کی جا سکیی۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں بھی اس سلسلے میں کارروائی کی جاری ہے اور اس بات پر تو سب کا ہی اتفاق پایا جاتا ہے کہ ایسے افراد کو سرعام پھانسی دی جائے تاہم سر عام پھانسی دینے کے حوالے سے مشکلات اور مسائل موجود ہیں جس کی وجہ سے اس بات پر اتفاق رائے بن رہا ہےکہ ایسے افراد کو پھانسی دینے کے بعد اسکی لاش کو سر عام رکھا جائے تاکہ دیگر لوگ عبرت پکڑیں ۔
اس میں کسی شک کی بات نہیں کہ جب سے قصور کی معصوم زینب کا کیس سامنے آیا ہےاس کے بعد ایک ایک کرکے درنرگی کے ایسے کئی کیسس سامنے آچکے ہیں اور یہ سلسلہ تھما ہوا نظر نہیں آرہا ہے ۔اور ریاست اور ریاستی ادارےاب تک قراردادوں اور مشاورتی عمل میں ہی پھنسے ہوئے ہیں ۔تاہم ریاست کو اس معاملے پرتمام تر سمجھوتوں اور مصلحتوں کے خول سے باہر نکل کر اب فیصلہ کرنا ہی ہوگا کیونکہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔




