اپنی ذمہ داری خود نبھائیے

بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات معاشرے کی جنسی گھٹن کا ثبوت ہیں۔ ہم وہ قو م ہیں جو جنسی ذیادتی اور تشدد تو برداشت کر سکتی ہے لیکن جنسی تعلیم و تربیت کا مشورہ ہمیں بے حیائی معلوم ہوتا ہے ۔بلاشبہ پاکستانی معاشرہ ایک مہذب اور روایت پسند معاشرہ ہے لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ ایک مہذب مثالی معاشرہ میں سب اچھا ہو۔
نبی کریمﷺنے فرمایا:
“تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور ہر شخص سے اس کے ما تحت (متعلقین ) کے بارے میں پوچھا جائے گا ” (صحیح بخاری)
اس لیے یہ ہماری خود کی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے بچوں کو جنسی ذیادتی سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ لیکن ایک غلطی ہم سے روز ہو رہی ہے اور جان بوجھ کر اپنی تھوڑی سے سہولت کے لیے کر رہے ہیں جسکا نتیجہ بعض اوقات اتنا بھیانک شکل میں نکلتا ہے کہ دل ہی پھٹ جائے ہم اکثر دن کے وقت تو چھوڑیے اکثر رات کے اوقات میں بھی بچوں کو پاس والی دکان میں سودا سلف لینے کے لیے بھج دیتے ہیں بچے تو معصوم ہوتے ہیں اور وہ دنیا سے بے خبر ہو کر خریداری کر رہے ہوتے ہیںاور ان بچوں کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کوئی حیوان ان پر گندی نگاہیں مرکوز کیے ہوئے بیٹھا ہے اور موقع ملتے ہی وہ حیوان اسے اپنے حصار میں لے لے گا اور اگر پھر بچہ اغواء یا جنسی ذیادتی کا شکار ہو جائے تو پھر ہم اپنے آپ کو کوستے ہیں کی کاش ہم اسے سودا سلف لینے نہ بھیجتے اور آج ہمارا بچہ ہمارے ساتھ ہوتا لہذٰا آپ سب والدین سے گزارش ہے کہ گھر کے کام آپ خود کریں اور اپنے بچوں کو سودا سلف لینے کے لیے نہ بھیجیں
اور بچوں کی ہر قسم کی سرگرمی پر نظر رکھیں کہ وہ کن لوگوں سے ملتے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے بات کرتے ہیں ۔بچوں کے ساتھ ذیادہ سخت رویہ نہ اپنائیں اور نرمی سے برتاؤ کریں تاکجہ انہیں مسئلہ درپیش ہو تو وہ بے خوف ہوکر بتا سکیں آپ اپنے بچوں کو یقین دلائیں کہ آپ ان کے بہترین دوست ہیں اور ہر مشکل میں ان کی مدد کے لیے تیار ہیں بچوں کو اچھے اور برے راز کا فرق بتائیں بچوں کو کسی بھی حالت میں اکیلا نہ چھوڑیں اور اگر انتہائی ضرورت پیش ہو تو کسی اعتبار والے شخص کے ہمراہ چھوڑیں بچوں کو بتایا جائے کہ وہ اپنے جسم کی حفاظت خود کریں نہ وہ خود کسی کوچھوئیں اور نہ کسی کو چھونے کی اجازت دیں اگر کوئی ان کو چھونے کی کوشش کرے تو وہ خود اپنے والدین کو بتائیں بچوں کو انکی عمر کے مطابق پوشیدہ جسمانی اعضاء کی حفاظت کی تربیت دیں اور بچوں کے بڑی عمر اور کم عمر بچوں کے ساتھ میل جول پر خاص نظر رکھیں اور انہیں ہدایت دیں کہ وہ اپنی عمر کے بچوں سے ہی دوستی کریں یہ سب کام والدین کے کرنے کے ہیں اوراساتزہ کرام کوبھی چاہیے کہ وہ اپنے آپ کومثالی استار کے طور پر پیش کرے اور انہے کلاس میں ٹریننگ دیں کہ اپنے آپ کو کیسے اس طرح کے برے لوگو سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ اورجو کام والدین اور استاد کے کرنے کے ہیں اگر وہ کام وہ اپنی پوری ذمہ داری کے ساتھ پورے طریقے سے نبھائیں تو ایسے واقعات کی روک تھام کافی حد تک ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ کیونکہ یہ صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ہماری خود کی ذمہ داری ہے کیونکہ بچے ہی ہمارا مستقبل ہیں انہیں وقت دیجیئے تاکہ بچوں کو جنسی ذیادتی جیسے ظلم سے محفوظ رکھا جائے۔

Leave a comment