بچوں سے جنسی ذیادتی ، پاکستان میں تیزی سے بڑھتا ہوا جرم

بچوں سے جنسی ذیادتی سے مراد بچوں کو جسمانی چوٹ پہنچانا یا جنسی طور پر ہراساں کرنے کے ہیں ، بچوں سے جنسی ذیادتی دور حاضر کا اہم اور بڑی تیزی سے بڑھتا ہوا جرم ہے ۔ جس میں کمی واقع ہونے کی بجائےدن بدن اضافی ہوتا جارہا ہے ۔ایک سروے کے مطابق 2019 میں 2217بچوں کے ساتھ جنسی ذیادتی کے واقعات پیش آئے ۔
2019 میں زینب کی پہلی برسی کے موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ زینب قتل کیس کے بعد صرف قصور میں مزید 300 بچوں سے جنسی ذیادتی کے واقعات پیش آئے ۔ یہ ایک افسوسناک بات ہے کہ بچوں سے ذیادتی کا جرم پاکستان میں پروان چڑھتا جارہا ہے۔
پولیس کے مطابق ذیادہ تر وارداتوں سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریلپسٹ اور بچے اجنبی نہیں ہوتے بلکہ ایک دوسرے کو جانتے ہیں ۔ان میں قریبی رشتہ داروں سے لے کر محلہ داروں میں سے کوئی ہوتا ہے ۔
ایک سروے کے مطابق 90٪ کیسس میں ذیادہ تر بچے اپنے جاننے والوں کے ہاتھوں جنسی ذیادتی کا شکار بنتے ہیں ۔ جس میں سے 60٪ کیسس میں بچے اپنے اساتذہ ہمسایوں اور علاقے کےلوگوں کے ہاتھوں جنسی ذیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ صرف 10٪کیسس میں بچےاجنبی کے ہاتھوں جنسی ذیادتی کا شکار بنتے ہیں۔
2019 کے سروے کے مطابق صرف 29٪ کیسس کو رپورٹ کیا جاتا ہے اور 61٪ کیسس کو رپورٹ ہی نہیں کیا جاتا۔عموما ریلیسٹ کئی طرح کے ہوتے ہیں ایک وہ جو کسی انتقام یا غصے کے تحت یہ کام کرتے ہیں ۔ انکی واردات انفرادی اور اجتماعی دونوں طرح کی ہوسکتی ہے اور کچھ ریلیسٹ بچوں سے ںجنسی زیادی لطف اٹھانے کے لیے کرتے ہیں اس طرح کے ریلیٹ بچوں کو طرح طرح کی من پسند جسمانی و ذہنی اذیت ناکی سے گزار کر لطف پورا کرتے ہیں اور وہ مار پیٹ سے بچوں کے نازک اعضاء اور چہرے کو مسخ کر دیتے ہیں ان سب حرکتوں سے انہیں ایک طرح کا سکون حاصل ہوتا ہےاور پھر وہ لطف پورا کرنے کے بعد بچوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ پا کستا ن میں زیازہ تر ریپست کی یہی تعداد پائی جاتی ہے۔
لہذٰا ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ والدین کی خود کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں پر گہری نظر رکھیں کہ وہ کہاں جاتے ہیں اور کن لوگوں سے بات کرتے ہیں اور کن لوگوں سے انکو گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے ۔صرف اسی طرح ہم اپنے بچوں کو جنسی ذیادتی سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

Leave a comment