بچوں سے جنسی ذیادتی ہمارے معاشرے کا افسوسناک المیہ ہے ۔ٹی وی ، ریڈیو اور سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں میں بہت ذیادہ آگاہی فراہم کی گئی ہے کہ اپنے بچوں کو جنسی تشدد اور ذیادتی سے کیسے محفوظ رکھا جا سکتا ہے لیکن لوگوں میں آگاہی ہونے کے باوجود بچوں سے جنسی ذیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ حکومت پاکستان، NGO’s اور مختلف ادارے بچوں سے جنسی ذیادتی کی روک تھام کے لیے بہت کوشش کر رہے ہے۔ اور اس کی روک تھام کے لیے ہیلپ لائن نمبر1121بھی متعارف کروائی گئی ۔ لیکن اس کے باوجود نہ جانے روز کتنے ہی بچے جنسی ذیادتی کا شکار ہوتےہیں۔ بچوں پر جنسی ذیادتی کی وجہ سے بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو پاتے اور اپنے ساتھ ہونے والے جنسی ذیادتی کے واقعات کو کبھی نہیں بھول پاتے جسکی وجہ سے بچوں میں بہت ذیادہ تر دماغی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ اپنے ساتھ ہوئی جنسی ذیادتی کی وجہ سے بچے ہمیشہ گھبراہٹ کا شکار رہتے ہیں۔ اور لوگوں میں ذیادہ گھلنے ملنے سے گریز کرتے ہیں اور ہمیشہ تنہائی میں رہنا ذیادہ پسند کرتے ہیں ۔جنسی ذیادتی کی وجہ سے بچوں میں احساس کمتری کا عنصر پیدا ہو جاتا ہے اور احساس کمتری ایک ایسی دماغی بیماری ہے جسکی وجہ سے بچہ اپنا اعتماد اور طاقت کھودیتا ہے اور ہمیشہ اپنے آپ کو دوسروں سے کمتر محسوس کرتا ہے جسکی وجہ سے وہ اپنی زندگی کی اہم سر گرمیوں میں حصہ نہیں لے پاتے۔ بچے جنسی ذیادتی کی وجہ سے ہمیشہ ڈر اور خوف کا شکار رہتے ہیں اور وہ ہر کسی سے ڈر اور خوف محسوس کرتے ہیں حالانکہ وہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں سے بھی ڈر اور خوف محسوس کرتے ہیں اور کسی پر اعتبار اور بھروسہ نہیں کرتے ۔اور جب کوئی ان کے دوست اور رشتہ داروں میں سے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے تو انکو شدید غصہ آتا ہے۔اور وہ غصے کی حالت میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں سے بد اخلاقی اور بد تمیزی سے پیش آتے ہیں اور انکو اس بات کا بالکل احساس نہیں ہوتا کہ وہ ان سے کس لہجےمیں بات کر رہے ہیں۔اور غصے کے بعد بچے اپنے آپ کو بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں ۔اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں جسکی وجہ سے وہ اپنے آپ سے اور اپنے جسم سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی کبھار انہیں یہ نقصان خود کشی کی طرف لے جاتا ہے ۔ جنسی ذیادتی کی وجہ سے بچے ہمیشہ الجھن کا شکار رہتے ہیں اور اس الجھن کی وجہ سے وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے پاتے ۔اور ذیادہ تر بچے منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور پھر بچے منشیات کا عادی بن جاتے ہیں۔

لہذٰا میرے اس بلاگ کو پڑھنے والے تمام لوگوں سے درخواست ہے کہ بچوں سے جنسی ذیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے سب اپنا کردار ادا کریں کیونکہ یہ صرف حکومت کی ہی نہیں بلکہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔