ہم کتنی اور زینتوں کی لاشیں اٹھائیں گے؟

بچوں کےساتھ جنسی ذیادتی و تشدد کے واقعات میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے. قصور سکینڈل پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل تھا. زینب ذیادتی کے بعد قتل کی جانے والی پاکستان کی پہلی یا آخری بچی نہیں تھی ۔لیکن پھر بھی زینب ذیادتی قتل کیس پاکستان کا اہم ترین کیس تھا. لیکن کیا اس واقعہ کے بعد دیگر پاکستانی بچے جنسی ذیادتی۔۔۔۔ سے محروم رہے ؟ نہیں بلکہ زینب واقعہ کے بعد بچوں سےجنسی ذیادتی اور قتل کی مزید خبریں سامنے آئیں کہ ایک لمحے کو ایسا لگنے لگاکہ شاید اب ہم اخلاقی تباہی کے اس موڑ پر کھڑے ہیں جہاں خدا کا عذاب آناہی باقی رہ جاتا ہے۔
ابھی چند دن قبل ہی ضلع نوشہرہ کے ایک گاؤں میں 8 سالہ حوض ِنور نامی بچی کے قتل اور جنسی ذیادتی کا واقعہ پیش آیا .

اسی رات پولیس کو بچی کی لاش ملی تھی جس کے بعد پولیس ملزمان کی تلاش میں تھی تاہم بچی کے لواحقین نے ہی ان ملزمان کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا ۔ ان ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد بیان ریکارڈ کروائے گئے جن میں ایک ملزم نے قتل اور ذیادتی کا اعتراف کیا۔بچوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ نور روزانہ اپنی بہن کے ساتھ تین بچے سپارہ پڑھنے جاتی تھی ۔آج بھی وہ سپارہ پڑھنے ہی گئی تھی اور واپسی پر یہ شخص اسے راستے میں روک کر چیزوں کی لالچ دینے لگا ۔اور اسکی چھوٹی بہن گھر واپس آگئی ۔ شام ہونے کے بعد گھر والے نور کو ڈھونڈنے نکلے اور مسجد میں اعلان بھی کروایا ۔اور واردات کرنے والا شخص ہمارے ساتھ ملکر نور کو تلاش کرنے لگا تاکہ کسی کو اس پر شک نہ ہو ۔ کبھی کہتا نور کو میں نے اُدھر دیکھا تھا اور کبھی کچھ کہتا تھا ۔ پھر نور کی چھوٹی بہن نے بتایا کہ یہ وہی شخص تھا ۔جس نے اسے راستے میں روکا تھا ۔پہلے وہ بتا نہیں رہا تھا پھر اس کے گھر سے دوپٹہ ملا اور پھر اس نے بتایا کہ نور کی لاش ٹینکی میں ہے ایک ٹیکسی والا بھی اس کے ساتھ شامل تھا ۔ لواحقیننے قانون کو ہاتھ میں لینے کی بجائے پولیس کو اطلاع دی نور کے والدین انتہائی غمگین ہیں صوبے کے وزیر اعلیٰ محمود خان بھی بچی کے لواحقین سے ملنے گئے ۔ اس موقع پر لوگوں کی کافی تعداد موجود تھی ۔اور انہوں نے وزیر اعلیٰ محمود خان سے شکایت کی کہ اس سے پہلے بھی نوشیو میں مناہل نام کی بچی کا قتل اور ریپ ہوا تھا مگر حکومت نے کچھ سخت اقدامات نہیں کیے اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے علاقے کے لوگوں سے سخت قانون سازی کا وعدہ کیا ۔ اور پھر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت ، صحافیوں اور سول سوسائٹی اور سب کواپنا کردار اداد کرنا ہوگا۔
لہذٰا نور،زینب اور دوسرے واقعات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بچوں کی حفاظت ہماری خود کی ذمہ داری ہے۔ہمیں بچوں کو اکیلا کہیں بھی نہیں بھیجنا چاہیے بلکہ خود انکے ساتھ جانا چاہیے ۔اور علاقے کے لوگوں پر بھی نظر رکھنی چاہیے ۔اگر بچہ کسی شخص کے بارے میں بتائے اور کسی نا خوشگوار واقعہ کی شکایت کرے تو چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو کی ہیلپ لائن 1121اور محکمہ پولیس کی ہیلپ لائن15 پر فوری رابطہ کریں کیونکہ اب ہم میں اور سکت اور طاقت نہیں کہ ہم مزید زینبوں کی لاشیں اٹھا سکیں۔

Leave a comment